اب دل کا سفینہ کیا ابھرے طوفاں کی ہوائیں ساکن ہیںاب بحر سے کشتی کیا کھیلے موجوں میں کوئی گرداب نہیں…
انتشار: 2026/07/31 02:03 UTCدریافت: 2026/08/14 07:46 UTCآخرین مشاهده: 2026/08/14 07:46 UTC
اب دل کا سفینہ کیا ابھرے طوفاں کی ہوائیں ساکن ہیںاب بحر سے کشتی کیا کھیلے موجوں میں کوئی گرداب نہیںجوش ملیح آبادی@Rekhta